Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Al-An'aam Ayah 89

6:89
اولايك الذين اتيناهم الكتاب والحكم والنبوة فان يكفر بها هاولاء فقد وكلنا بها قوما ليسوا بها بكافرين ٨٩
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًۭا لَّيْسُوا۟ بِهَا بِكَـٰفِرِينَ ٨٩
أُوْلَٰٓئِكَﲨ
ٱلَّذِينَﲩ
ءَاتَيۡنَٰهُمُﲪ
ٱلۡكِتَٰبَﲫ
وَٱلۡحُكۡمَﲬ
وَٱلنُّبُوَّةَۚﲭﲮ
فَإِنﲯ
يَكۡفُرۡﲰ
بِهَاﲱ
هَٰٓؤُلَآءِﲲ
فَقَدۡﲳ
وَكَّلۡنَاﲴ
بِهَاﲵ
قَوۡمٗاﲶ
لَّيۡسُواْﲷ
بِهَاﲸ
بِكَٰفِرِينَﲹ
٨٩ﲺ
Mereka itulah orang-orang yang telah Kami berikan kepadanya Kitab Suci, dan Hikmah (ilmu pengetahuan), serta pangkat kenabian. Oleh itu, jika orang-orang (kafir) itu mengingkarinya, maka sesungguhnya Kami akan menyerahkannya kepada kaum (lain) yang tidak akan mengingkarinya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

فَاِنْ یَّکْفُرْ بِہَا ہٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِہَا بِکٰفِرِیْنَ k مقام عبرت ہے ! محمد رسول اللہ ﷺ جیسا رسول ‘ مبلغ ‘ داعی ‘ مربی ‘ مزکی اور معلّم پچھلے بارہ سال سے دن رات محنت کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک صرف ڈیڑھ ‘ پونے دو سو افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں آپ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ مکہ کے یہ لوگ اگر اس دعوت کی ناقدری کر رہے ہیں ‘ اس قرآن کی ناشکری کر رہے ہیں ‘ اس کا انکار کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کی دس بارہ سال کی محنت کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں تو آپ ﷺ دل شکستہ نہ ہوں ‘ عنقریب ایک دوسری قوم بڑے ذوق وشوق سے اس دعوت پر لبیک کہنے جا رہی ہے۔ اس خوش قسمت قوم سے مراد انصار مدینہ ہیں۔ اور واقعی اس سلسلے میں اہل مکہ پیچھے رہ گئے اور اہل مدینہ بازی لے گئے۔ بقول شاعر : گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا !دُنیا کے حالات و اسباب کو دیکھتے ہوئے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ دین کے کام میں کیسے کیسے اسباب پیدا فرماتے ہیں اور کہاں کہاں سے کس کس طرح کے لوگوں کے دلوں کو پھیر کر ہدایت کی توفیق دے دیتے ہیں۔ مجھے اپنی دعوت رجوع الی القرآن کے بارے میں بھی اطمینان ہے کہ پاکستان میں اس کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی تو کیا ہوا ‘ یہ دعوت مختلف ذرائع سے پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ‘ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن کی یہ انقلابی دعوت کس جگہ زمین کے اندر جڑ پکڑ لے اور ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرلے۔