Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'aam Ayah 59

6:59
۞ وعنده مفاتح الغيب لا يعلمها الا هو ويعلم ما في البر والبحر وما تسقط من ورقة الا يعلمها ولا حبة في ظلمات الارض ولا رطب ولا يابس الا في كتاب مبين ٥٩
۞ وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍۢ فِى ظُلُمَـٰتِ ٱلْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍۢ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مُّبِينٍۢ ٥٩
۞ وَعِندَهُۥﲸ ﲹ
مَفَاتِحُﲺ
ٱلۡغَيۡبِﲻ
لَاﲼ
يَعۡلَمُهَآﲽ
إِلَّاﲾ
هُوَۚﲿﳀ
وَيَعۡلَمُﳁ
مَاﳂ
فِيﳃ
ٱلۡبَرِّﳄ
وَٱلۡبَحۡرِۚﳅﳆ
وَمَاﳇ
تَسۡقُطُﳈ
مِنﳉ
وَرَقَةٍﳊ
إِلَّاﳋ
يَعۡلَمُهَاﳌ
وَلَاﳍ
حَبَّةٖﳎ
فِيﳏ
ظُلُمَٰتِﳐ
ٱلۡأَرۡضِﳑ
وَلَاﳒ
رَطۡبٖﳓ
وَلَاﳔ
يَابِسٍﳕ
إِلَّاﳖ
فِيﳗ
كِتَٰبٖﳘ
مُّبِينٖﳙ
٥٩ﳚ
Dan pada sisi Allah jualah anak kunci perbendaharaan segala yang ghaib, tiada sesiapa yang mengetahuinya melainkan Dia lah sahaja; dan Ia mengetahui apa yang ada di darat dan di laut; dan tidak gugur sehelai daun pun melainkan Ia mengetahuinya, dan tidak gugur sebutir bijipun dalam kegelapan bumi dan tidak gugur yang basah dan yang kering, melainkan (semuanya) ada tertulis di dalam kitab (Lauh Mahfuz) yang terang nyata.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 6:56 hingga 6:59

خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔

مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔