Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-An'aam 6:4

6:4
وما تاتيهم من اية من ايات ربهم الا كانوا عنها معرضين ٤
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍۢ مِّنْ ءَايَـٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ٤
وَمَا
تَأۡتِيهِم
مِّنۡ
ءَايَةٖ
مِّنۡ
ءَايَٰتِ
رَبِّهِمۡ
إِلَّا
كَانُواْ
عَنۡهَا
مُعۡرِضِينَ
٤
Dan tidak ada sesuatu keterangan yang sampai kepada mereka (yang kafir) dari keterangan-keterangan Tuhan mereka, melainkan mereka selalu berpaling daripadanya (enggan menerimanya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 6:4 hingga 6:6
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ ٭٭

کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں؟

وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے در پے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت تروتازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے۔ جب وہ تکبر میں آ گئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کر دیئے گئے۔ تہس نہس ہو گئے، بھوسی اڑ گئی۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔

صفحہ نمبر2532