Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-An'aam 6:157

6:157
او تقولوا لو انا انزل علينا الكتاب لكنا اهدى منهم فقد جاءكم بينة من ربكم وهدى ورحمة فمن اظلم ممن كذب بايات الله وصدف عنها سنجزي الذين يصدفون عن اياتنا سوء العذاب بما كانوا يصدفون ١٥٧
أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَـٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَـٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ ١٥٧
أَوۡ
تَقُولُواْ
لَوۡ
أَنَّآ
أُنزِلَ
عَلَيۡنَا
ٱلۡكِتَٰبُ
لَكُنَّآ
أَهۡدَىٰ
مِنۡهُمۡۚ
فَقَدۡ
جَآءَكُم
بَيِّنَةٞ
مِّن
رَّبِّكُمۡ
وَهُدٗى
وَرَحۡمَةٞۚ
فَمَنۡ
أَظۡلَمُ
مِمَّن
كَذَّبَ
بِـَٔايَٰتِ
ٱللَّهِ
وَصَدَفَ
عَنۡهَاۗ
سَنَجۡزِي
ٱلَّذِينَ
يَصۡدِفُونَ
عَنۡ
ءَايَٰتِنَا
سُوٓءَ
ٱلۡعَذَابِ
بِمَا
كَانُواْ
يَصۡدِفُونَ
١٥٧
Atau supaya kamu (tidak) mengatakan: "Sesungguhnya kalau diturunkan Kitab kepada kami tentulah kami mendapat petunjuk hidayah lebih daripada mereka". (Kamu tidak akan dapat berdalih lagi) kerana sesungguhnya telah datang kepada kamu keterangan (yang cukup) dari Tuhan kamu, dan petunjuk hidayah serta rahmatNya (yang melimpah-limpah). Oleh itu, siapakah yang lebih zalim lagi daripada orang yang mendustakan ayat-ayat keterangan Allah dan berpaling daripadanya? Kami akan membalas orang-orang yang berpaling dari ayat-ayat keterangan Kami (dengan) azab seksa yang seburuk-buruknya, disebabkan mereka sentiasa berpaling (mengingkarinya).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 6:156 hingga 6:157
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭

فرماتا ہے کہ ” اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن» [28-القصص:47] ‏، یعنی ” اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے “۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ ” اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کر دیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آ جائے تو ہم ہدایت کو مان لیں “۔

صفحہ نمبر2816

اللہ فرماتا ہے ” اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آ چکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آ جائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ “۔

اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [6-الانعام:26] ‏ ” خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ» [16-النحل:88] ‏ یعنی ” جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے “۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے۔

جیسے فرمان ہے آیت «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:32-31] ‏ یعنی ” نہ تونے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیر لیا “۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔

صفحہ نمبر2817