Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ahzaab 33:18

33:18
۞ قد يعلم الله المعوقين منكم والقايلين لاخوانهم هلم الينا ولا ياتون الباس الا قليلا ١٨
۞ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلْمُعَوِّقِينَ مِنكُمْ وَٱلْقَآئِلِينَ لِإِخْوَٰنِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ ٱلْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ١٨
۞ قَدۡ
يَعۡلَمُ
ٱللَّهُ
ٱلۡمُعَوِّقِينَ
مِنكُمۡ
وَٱلۡقَآئِلِينَ
لِإِخۡوَٰنِهِمۡ
هَلُمَّ
إِلَيۡنَاۖ
وَلَا
يَأۡتُونَ
ٱلۡبَأۡسَ
إِلَّا
قَلِيلًا
١٨
Sesungguhnya Allah mengetahui akan orang-orang (munafik) yang menghalangi di antara kamu, dan orang-orang yang berkata kepada saudara-saudaranya: "Marilah bersatu dengan kami", sedang mereka tidak turut berperang melainkan sebentar sahaja.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 33:18 hingga 33:19
جہاد سے منہ موڑنے والے ایمان سے خالی لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محیط علم سے انہیں خوب جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں۔ اپنے ہم صحبتوں سے یار دوستوں سے کنبے قبیلے والوں سے کہتے ہیں کہ آؤ تم بھی ہمارے ساتھ رہو اپنے گھروں کو اپنے آرام کو اپنی زمین کو اپنے بیوی بچوں کو نہ چھوڑو۔ خود بھی جہاد میں آتے نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کسی وقت منہ دکھاجائیں اور نام لکھوا جائیں۔ یہ بڑے بخیل ہیں نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے نہ ان کے دل میں تمہاری ہمدردی نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔

خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ” ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے “۔

صفحہ نمبر6985