Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ahzaab 33:17

33:17
قل من ذا الذي يعصمكم من الله ان اراد بكم سوءا او اراد بكم رحمة ولا يجدون لهم من دون الله وليا ولا نصيرا ١٧
قُلْ مَن ذَا ٱلَّذِى يَعْصِمُكُم مِّنَ ٱللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوٓءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةًۭ ۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا ١٧
قُلۡ
مَن
ذَا
ٱلَّذِي
يَعۡصِمُكُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
إِنۡ
أَرَادَ
بِكُمۡ
سُوٓءًا
أَوۡ
أَرَادَ
بِكُمۡ
رَحۡمَةٗۚ
وَلَا
يَجِدُونَ
لَهُم
مِّن
دُونِ
ٱللَّهِ
وَلِيّٗا
وَلَا
نَصِيرٗا
١٧
Katakanlah: "Siapakah yang dapat melindungi kamu dari kemurkaan Allah jika Ia mahu menimpakan bala bencana kepada kamu, atau (siapakah yang dapat menahan kemurahan Allah) jika Ia hendak memberikan rahmat kepada kamu? " Dan (ingatkanlah) mereka (yang munafik) itu: bahawa mereka tidak akan beroleh sesiapapun - yang lain dari Allah - yang akan menjadi pelindung atau penolong mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 33:14 hingga 33:17
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں “۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر6980

پھر فرماتا ہے ” یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا “۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ ” بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے “۔

صفحہ نمبر6981