Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Ahqaaf 46:28

46:28
فلولا نصرهم الذين اتخذوا من دون الله قربانا الهة بل ضلوا عنهم وذالك افكهم وما كانوا يفترون ٢٨
فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرْبَانًا ءَالِهَةًۢ ۖ بَلْ ضَلُّوا۟ عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ ٢٨
فَلَوۡلَا
نَصَرَهُمُ
ٱلَّذِينَ
ٱتَّخَذُواْ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
قُرۡبَانًا
ءَالِهَةَۢۖ
بَلۡ
ضَلُّواْ
عَنۡهُمۡۚ
وَذَٰلِكَ
إِفۡكُهُمۡ
وَمَا
كَانُواْ
يَفۡتَرُونَ
٢٨
Maka sepatutnya mereka dibela oleh segala yang mereka sembah yang lain dari Allah sebagai penyembahan untuk mendekatkan diri (kepada Allah)? (Tetapi tidak), bahkan segala yang mereka sembah itu telah hilang lenyap dari mereka. Dan demikianlah akibat penyelewengan mereka dan kepercayaan yang mereka telah ada-adakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 46:26 hingga 46:28
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں، ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں ان کی طرح نہ ہونا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان کے سے عذاب تم پر بھی آ جائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کر دی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت کے بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضر موت کے علاقہ میں ہے، یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو، تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو، تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لیے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کر دیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔

صفحہ نمبر8473

پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الٰہی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہو گئے، ان سے بھاگ گئے، ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8474