Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Maryam 19:78

19:78
اطلع الغيب ام اتخذ عند الرحمان عهدا ٧٨
أَطَّلَعَ ٱلْغَيْبَ أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحْمَـٰنِ عَهْدًۭا ٧٨
أَطَّلَعَﱊ
ٱلۡغَيۡبَﱋ
أَمِﱌ
ٱتَّخَذَﱍ
عِندَﱎ
ٱلرَّحۡمَٰنِﱏ
عَهۡدٗاﱐ
٧٨ﱑ
Has he looked into the unseen or taken a pledge from the Most Compassionate?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 19:77 to 19:80

جب آدمی کے پاس دولت اور طاقت کا کوئی حصہ آتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی پیداہوجاتی ہے۔ وہ ایسی روش اختیار کرتاہے جو ا س کی واقعی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ ایسی باتیں بولنے لگتا ہے جو اس کو نہیں بولنا چاہیے۔

ایسا ہی ایک واقعہ مکہ میں ہوا۔ عاص بن وائل مکہ کا ایک مشرک سردار تھا۔ حضرت خباب بن الارت کی کچھ رقم اس کے ذمہ باقی تھی۔ انھوںنے رقم کا مطالبہ کیا تو عاص بن وائل نے کہا کہ میںتمھاری رقم اس وقت دوں گا جب کہ تم محمدؐ کا انکار کرو۔ ان کی زبان سے نکلا کہ میں ہر گز محمدؐ کا انکار نہیں کروں گا یہاںتک کہ تم مرو اور پھر پیدا ہو۔ عاص بن وائل نے یہ سن کر کہا کہ جب میں دوبارہ پیداہوں گا (دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ)تو وہاں بھی میں مال اور اولاد کا مالک رہوں گا، اس وقت تم مجھ سے اپنی رقم لے لینا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2091)

یہ سب جھوٹی خود اعتمادی کی باتیں ہیں اور جھوٹی خود اعتمادی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔