Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
12:55
قال اجعلني على خزاين الارض اني حفيظ عليم ٥٥
قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ ٥٥
قَالَ
اجْعَلْنِیْ
عَلٰی
خَزَآىِٕنِ
الْاَرْضِ ۚ
اِنِّیْ
حَفِیْظٌ
عَلِیْمٌ
۟
Dia (Yusuf) berkata, "Jadikanlah aku bendaharawan negeri (Mesir); karena sesungguhnya aku adalah orang yang pandai menjaga dan berpengetahuan."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 12:54 hingga 12:55
باب

جب بادشاہ کے سامنے یوسف علیہ السلام کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کر لوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ علیہ السلام کی صورت دیکھی۔ آپ علیہ السلام کی باتیں سنیں، آپ علیہ السلام کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہو گیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے ایک خدمت اپنے لیے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کر سکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔

صفحہ نمبر4025