Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
12:41
يا صاحبي السجن اما احدكما فيسقي ربه خمرا واما الاخر فيصلب فتاكل الطير من راسه قضي الامر الذي فيه تستفتيان ٤١
يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ٤١
یٰصَاحِبَیِ
السِّجْنِ
اَمَّاۤ
اَحَدُكُمَا
فَیَسْقِیْ
رَبَّهٗ
خَمْرًا ۚ
وَاَمَّا
الْاٰخَرُ
فَیُصْلَبُ
فَتَاْكُلُ
الطَّیْرُ
مِنْ
رَّاْسِهٖ ؕ
قُضِیَ
الْاَمْرُ
الَّذِیْ
فِیْهِ
تَسْتَفْتِیٰنِ
۟ؕ
Wahai kedua penghuni penjara, "Salah seorang di antara kamu, akan bertugas menyediakan minuman khamar bagi tuannya. Adapun yang seorang lagi, dia akan disalib, lalu burung memakan sebagian kepalanya. Telah terjawab perkara yang kamu tanyakan (kepadaku)."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
خواب اور اس کی تعبیر ٭٭

اب اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ان کے خواب کی تعبیر بتلا رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرماتے کہ تیری خواب کی یہ تعبیر ہے اور تیرے خواب کی یہ تعبیر ہے تاکہ ایک رنجیدہ نہ ہو جائے اور موت سے پہلے اس پر موت کا بوجھ نہ پڑ جائے۔ بلکہ مبہم کر کے فرماتے ہیں تم دو میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کا ساقی بن جائے گا یہ دراصل یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے جس نے شیرہ انگور تیار کرتے اپنے تئیں دیکھا تھا۔ اور دوسرے جس نے اپنے سر پر روٹیاں دیکھی تھیں۔ اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ اسے سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا مغز کھائیں گے۔ پھر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ اب ہو کر ہی رہے گا۔ اس لیے کہ جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ کی جائے وہ معلق رہتا ہے اور جب تعبیر ہو چکی وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تعبیر سننے کے بعد ان دونوں نے کہا کہ ہم نے تو دراصل کوئی خواب دیکھا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا اب تو تمہارے سوال کے مطابق ظاہر ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص خواہ مخواہ کا خواب گھڑ لے اور پھر اس کی تعبیر بھی دی دے دی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خواب گویا پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے جب تعبیر دے دی گئی پھر وہ واقع ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد:10/4:صحیح] ‏ مسند ابو یعلیٰ میں مرفوعاً مروی ہے کہ خواب کی تعبیر سب سے پہلے جس نے دی اس کے لیے ہے۔ [ابن ابی شیبة،11/7:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4007