Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Yusuf Ayah 21

12:21
وقال الذي اشتراه من مصر لامراته اكرمي مثواه عسى ان ينفعنا او نتخذه ولدا وكذالك مكنا ليوسف في الارض ولنعلمه من تاويل الاحاديث والله غالب على امره ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٢١
وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٢١
وَقَالَ
الَّذِی
اشْتَرٰىهُ
مِنْ
مِّصْرَ
لِامْرَاَتِهٖۤ
اَكْرِمِیْ
مَثْوٰىهُ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّنْفَعَنَاۤ
اَوْ
نَتَّخِذَهٗ
وَلَدًا ؕ
وَكَذٰلِكَ
مَكَّنَّا
لِیُوْسُفَ
فِی
الْاَرْضِ ؗ
وَلِنُعَلِّمَهٗ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ ؕ
وَاللّٰهُ
غَالِبٌ
عَلٰۤی
اَمْرِهٖ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
Dan orang dari Mesir yang membelinya berkata kepada istrinya,1 "Berikanlah kepadanya tempat (dan layanan) yang baik, mudah-mudahan dia bermanfaat bagi kita atau kita pungut dia sebagai anak." Dan demikianlah Kami memberikan kedudukan yang baik kepada Yusuf di negeri (Mesir), dan agar Kami ajarkan kepadanya takwil mimpi. Dan Allah berkuasa terhadap urusan-Nya, tetapi kebanyakan manusia tidak mengerti.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 21 وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاوہ شخص مصر کی حکومت میں بہت اعلیٰ منصب عزیز مصر پر فائز تھا۔ حضرت یوسف کو بیٹا بنانے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کے ہاں اولاد نہیں تھی۔وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے یوسف کو اس دور کی متمدن ترین مملکت میں پہنچا دیا اور وہاں آپ کی رہائش کا بندوبست بھی کیا تو کسی جھونپڑی میں نہیں بلکہ ملک کے ایک بہت بڑے صاحب حیثیت شخص کے گھر میں اور وہ بھی محض ایک غلام کے طور پر نہیں بلکہ خصوصی عزت و اکرام کے انداز میں۔وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ یعنی عزیز مصر کے گھر میں آپ کو جگہ بنا کردینے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہاں آپ کو ”معاملہ فہمی“ کی تربیت فراہم کی جائے۔ عزیز مصر کا گھر ایک طرح کا سیکریٹریٹ ہوگا جہاں آئے دن انتہائی اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوتے ہوں گے اور قومی و بین الاقوامی نوعیت کے انتہائی اہم امور پر بحث و تمحیص کے بعد فیصلے کیے جاتے ہوں گے اور حضرت یوسف کو ان تمام سرگرمیوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے مواقع میسر آتے ہوں گے۔ اس طرح بہت اعلیٰ سطح کی تعلیم و تربیت کا ایک انتظام تھا جو حضرت یوسف کے لیے یہاں پر کردیا گیا۔وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ اللہ تعالیٰ اپنے ارادے کی تنفیذ پر غالب ہے وہ اپنا کام کر کے رہتا ہے۔