Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nisa' 4:91

4:91
ستجدون اخرين يريدون ان يامنوكم ويامنوا قومهم كل ما ردوا الى الفتنة اركسوا فيها فان لم يعتزلوكم ويلقوا اليكم السلم ويكفوا ايديهم فخذوهم واقتلوهم حيث ثقفتموهم واولايكم جعلنا لكم عليهم سلطانا مبينا ٩١
سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَـٰنًۭا مُّبِينًۭا ٩١
سَتَجِدُوْنَ
اٰخَرِیْنَ
یُرِیْدُوْنَ
اَنْ
یَّاْمَنُوْكُمْ
وَیَاْمَنُوْا
قَوْمَهُمْ ؕ
كُلَّ
مَا
رُدُّوْۤا
اِلَی
الْفِتْنَةِ
اُرْكِسُوْا
فِیْهَا ۚ
فَاِنْ
لَّمْ
یَعْتَزِلُوْكُمْ
وَیُلْقُوْۤا
اِلَیْكُمُ
السَّلَمَ
وَیَكُفُّوْۤا
اَیْدِیَهُمْ
فَخُذُوْهُمْ
وَاقْتُلُوْهُمْ
حَیْثُ
ثَقِفْتُمُوْهُمْ ؕ
وَاُولٰٓىِٕكُمْ
جَعَلْنَا
لَكُمْ
عَلَیْهِمْ
سُلْطٰنًا
مُّبِیْنًا
۟۠
Kelak akan kamu dapati (golongan-golongan) yang lain, yang menginginkan agar mereka hidup aman bersamamu dan aman (pula) bersama kaumnya. Setiap kali mereka diajak kembali kepada fitnah (syirik), mereka pun terjun ke dalamnya. Karena itu jika mereka tidak membiarkan kamu dan tidak mau menawarkan perdamaian kepadamu, serta tidak menahan tangan mereka (dari memerangimu), maka tawanlah mereka dan bunuhlah mereka dimana saja kamu temui, dan merekalah orang yang Kami berikan kepadamu alasan yang nyata (untuk memerangi, menawan dan membunuh) mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
باب

پھر ایک دوسری جماعت کا ذکر ہو رہا ہے جسے مستثنیٰ کیا ہے جو میدان میں لائے جاتے ہیں لیکن یہ بیچارے بے بس ہوتے ہیں وہ نہ تو تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنا پسند کرتے ہیں بلکہ وہ ایسے بیچ کے لوگ ہیں جو نہ تمہارے دشمن کہے جا سکتے ہیں نہ دوست۔ یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان لوگوں کو تم پر مسلط نہیں کیا اگر وہ چاہتا تو انہیں زور و طاقت دیتا اور ان کے دل میں ڈال دیتا کہ وہ تم سے لڑیں۔

پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے باز رہیں اور صلح و صفائی سے یکسو ہو جائیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت نہیں، اسی قسم کے لوگ تھے جو بدر والے دن بنو ہاشم کے قبیلے میں سے مشرکین کے ساتھ آئے تھے جو دل سے اسے ناپسند رکھتے تھے۔ جیسے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کر لیا جائے۔

صفحہ نمبر1859

پھر ایک اور گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو بظاہر تو اوپر والوں جیسا ہے لیکن دراصل نیت میں بہت کھوٹ ہے یہ لوگ منافق ہیں حضور کے پاس آ کر اسلام ظاہر کر کے اپنے جان و مال مسلمانوں سے محفوظ کرا لیتے ہیں ادھر کفار میں مل کر ان کے معبودان باطل کی پرستش کر کے ان میں سے ہونا ظاہر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں تاکہ ان کے ہاتھوں سے بھی امن میں رہیں۔

دراصل یہ لوگ کافر ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ» [2-البقرة:14] ‏ ” اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جا کر کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں “ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے اس میں حصہ لیتے ہیں جیسے کوئی اوندھے منہ گرا ہوا ہو۔ «فِتْنَةِ» سے مراد یہاں شرک ہے

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی مکہ والے تھے یہاں آ کر بطور ریا کاری کے اسلام قبول کرتے تھے وہاں جا کر ان کے بت پوجتے تھے تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے کہ اگر یہ اپنی دوغلی روش سے باز نہ آئیں ایذاء رسانی سے ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں امن امان نہ دو ان سے بھی جہاد کرو، انہیں بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ قتل کر دو، بیشک ان پر ہم نے تمہیں ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے۔

صفحہ نمبر1860