Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nisa' 4:175

4:175
فاما الذين امنوا بالله واعتصموا به فسيدخلهم في رحمة منه وفضل ويهديهم اليه صراطا مستقيما ١٧٥
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِهِۦ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِى رَحْمَةٍۢ مِّنْهُ وَفَضْلٍۢ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَٰطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا ١٧٥
فَاَمَّا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
بِاللّٰهِ
وَاعْتَصَمُوْا
بِهٖ
فَسَیُدْخِلُهُمْ
فِیْ
رَحْمَةٍ
مِّنْهُ
وَفَضْلٍ ۙ
وَّیَهْدِیْهِمْ
اِلَیْهِ
صِرَاطًا
مُّسْتَقِیْمًا
۟ؕ
Adapun orang-orang yang beriman kepada Allah dan berpegang teguh kepada (agama)Nya, maka Allah akan memasukkan mereka ke dalam rahmat dan karunia dari-Nya (surga), dan menunjukkan mereka jalan yang lurus kepada-Nya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 4:174 hingga 4:175
قرآن مجید اللہ تعالٰی کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی چیز، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان (‏دلیل) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور، صاف روشنی، پورا اجالا اتار دیا ہے، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے۔

ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔ شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2101