Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Taha 20:66

20:66
قال بل القوا فاذا حبالهم وعصيهم يخيل اليه من سحرهم انها تسعى ٦٦
قَالَ بَلْ أَلْقُوا۟ ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ ٦٦
قَالَ
بَلْ
اَلْقُوْا ۚ
فَاِذَا
حِبَالُهُمْ
وَعِصِیُّهُمْ
یُخَیَّلُ
اِلَیْهِ
مِنْ
سِحْرِهِمْ
اَنَّهَا
تَسْعٰی
۟
Dia (Musa) berkata, "Silakan kamu melemparkan!" Maka tiba-tiba tali-tali dan tongkat-tongkat mereka terbayang olehnya (Musa) seakan-akan ia merayap cepat, karena sihir mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 20:66 hingga 20:67

‘ موسیٰ (علیہ السلام) نے چیلنج قبول کرتے ہوئے ان کو موقع دیا کہ پہلے پھینکیں اور اپنے لئے آخری و ار پسند کیا۔ لیکن بظاہر وہ ایک خوفناک اور عظیم جادو لے کر آئے ہیں۔ اچانک جب انہوں نے جادو شروع کیا تو میدان یوں لگتا تھا کہ سانپوں کی موجیں حرکت میں آگئی ہوں ، خود حضرت موسیٰ فرزدہ ہوگئے۔

فاذا حبالھم ……موسیٰ (76)

قرآن کریم کا انداز تعبیر بتاتا ہے کہ یہ جادو اس قدر عظیم تھا کہ حضرت موسیٰ بھی دل میں ڈر گئے جبکہ اس کے ساتھ اس کے رب بھی کھڑے تھے اور سب کچھ سن رہے تھے اور جان رہے تھے۔ موسیٰ تب ہی دل میں خائف ہو سکتے تھے کہ یہ سحر اس قدر خوفناک تھا کہ ایک لمحے کے لئے وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ زیادہ قوی ہیں اور انکے ساتھ رب عظیم کی عظیم قوت ہے چناچہ اللہ ان کو یاد دلاتے ہیں :