Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-A'raf 7:181

7:181
وممن خلقنا امة يهدون بالحق وبه يعدلون ١٨١
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ ١٨١
وَمِمَّنْ
خَلَقْنَاۤ
اُمَّةٌ
یَّهْدُوْنَ
بِالْحَقِّ
وَبِهٖ
یَعْدِلُوْنَ
۟۠
Dan di antara orang-orang yang telah Kami ciptakan ada umat yang memberi petunjuk dengan (dasar) kebenaran, dan dengan itu (pula) mereka berlaku adil.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف ٭٭

یعنی بعض لوگ حق و عدل پر قائم ہیں۔ حق بات ہی زبان سے نکالتے ہیں، حق کام ہی کرتے ہیں، حق کی طرف ہی اوروں کو بلاتے ہیں، حق کے ساتھ ہی انصاف کرتے ہیں اور بعض آثار میں مروی ہے کہ اس سے مراد امت محمدیہ ہے۔

چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے کہ یہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے پہلے یہ وصف قوم موسیٰ علیہ السلام کا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف] ‏

ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں، وہ خواہ کبھی بھی اتریں۔ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف] ‏

بخاری و مسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ظاہر رہے گا۔ انہیں ان کی دشمنی کرنے والے کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ [صحیح مسلم:1923] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے گا، وہ اسی پر رہیں گے۔ [صحیح مسلم:174] ‏

ایک روایت میں ہے: (‏اس وقت) وہ شام میں ہوں گے۔ [صحیح بخاری:7460] ‏

صفحہ نمبر3145