Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Sad Ayah 6

38:6
وانطلق الملا منهم ان امشوا واصبروا على الهتكم ان هاذا لشيء يراد ٦
وَٱنطَلَقَ ٱلْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ ٱمْشُوا۟ وَٱصْبِرُوا۟ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌۭ يُرَادُ ٦
وَانْطَلَقَ
الْمَلَاُ
مِنْهُمْ
اَنِ
امْشُوْا
وَاصْبِرُوْا
عَلٰۤی
اٰلِهَتِكُمْ ۖۚ
اِنَّ
هٰذَا
لَشَیْءٌ
یُّرَادُ
۟ۖۚ
Lalu pergilah pemimpin-pemimpin mereka (seraya berkata), "Pergilah kamu dan tetaplah (menyembah) tuhan-tuhanmu, sesungguhnya ini benar-benar suatu hal yang dikehendaki.1
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 38:4 hingga 38:8

’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔

قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔

’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔