Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Ghafir 40:5

40:5
كذبت قبلهم قوم نوح والاحزاب من بعدهم وهمت كل امة برسولهم لياخذوه وجادلوا بالباطل ليدحضوا به الحق فاخذتهم فكيف كان عقاب ٥
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍۢ وَٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍۭ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَـٰدَلُوا۟ بِٱلْبَـٰطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ٥
كَذَّبَتْ
قَبْلَهُمْ
قَوْمُ
نُوْحٍ
وَّالْاَحْزَابُ
مِنْ
بَعْدِهِمْ ۪
وَهَمَّتْ
كُلُّ
اُمَّةٍ
بِرَسُوْلِهِمْ
لِیَاْخُذُوْهُ
وَجٰدَلُوْا
بِالْبَاطِلِ
لِیُدْحِضُوْا
بِهِ
الْحَقَّ
فَاَخَذْتُهُمْ ۫
فَكَیْفَ
كَانَ
عِقَابِ
۟
Sebelum mereka, kaum Nuh dan golongan-golongan yang bersekutu setelah mereka telah mendustakan (rasul) dan setiap umat telah merencanakan (tipu daya) terhadap rasul mereka untuk menawannya dan mereka membantah dengan (alasan) yang batil untuk melenyapkan kebenaran; karena itu Aku tawan mereka (dengan azab). Maka betapa (pedihnya) azab-Ku?
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 40:4 hingga 40:6
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [ 31-لقمان: 24 ] ‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔

صفحہ نمبر7902

طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،] ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر7903