Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Ghafir Ayah 15

40:15
رفيع الدرجات ذو العرش يلقي الروح من امره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق ١٥
رَفِيعُ ٱلدَّرَجَـٰتِ ذُو ٱلْعَرْشِ يُلْقِى ٱلرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوْمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥
رَفِیْعُ
الدَّرَجٰتِ
ذُو
الْعَرْشِ ۚ
یُلْقِی
الرُّوْحَ
مِنْ
اَمْرِهٖ
عَلٰی
مَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
لِیُنْذِرَ
یَوْمَ
التَّلَاقِ
۟ۙ
(Dialah) Yang Mahatinggi derajat-Nya, yang memiliki Arasy, yang menurunkan wahyu dengan perintah-Nya kepada siapa yang Dia kehendaki di antara hamba-hamba-Nya, agar memperingatkan (manusia) tentang hari pertemuan (hari Kiamat),
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 15 { رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُوالْعَرْشِ } ”وہی اللہ ہے درجات کو بلند کرنے والا ‘ عرش کا مالک۔“ یہاں پھر اللہ کی شان کا بیان مرکب اضافی کی شکل میں ہوا ہے۔ { یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ } ”وہ القا کرتا ہے روح کو اپنے امر میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ خبردار کر دے لوگوں کو ملاقات کے دن سے۔“ تاکہ اللہ تعالیٰ کے وہ بندے لوگوں کو یاد دہانی کرائیں کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ یہاں پر الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ سے وحی مراد ہے۔ فرشتہ ‘ وحی اور انسانی روح تینوں کا تعلق عالم امر سے ہے ‘ لہٰذا ”روح“ کا لفظ ان تینوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔