Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Bayan ul Quran Tafsir: Saba' Ayah 10

34:10
۞ ولقد اتينا داوود منا فضلا يا جبال اوبي معه والطير والنا له الحديد ١٠
۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضْلًۭا ۖ يَـٰجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ ١٠
وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
دَاوٗدَ
مِنَّا
فَضْلًا ؕ
یٰجِبَالُ
اَوِّبِیْ
مَعَهٗ
وَالطَّیْرَ ۚ
وَاَلَنَّا
لَهُ
الْحَدِیْدَ
۟ۙ
Dan sungguh, telah Kami berikan kepada Dawud karunia dari Kami. (Kami berfirman), "Wahai gunung-gunung dan burung-burung! Bertasbihlah berulang-ulang bersama Dawud," dan Kami telah melunakkan besi untuknya,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 10 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔“ حضرت دائود اور حضرت سلیمان ﷺ کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ”ہم نے حکم دیا کہ اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا تھا۔“ ”تا ویب“ گویا ”ترجیع“ کا ہم معنی لفظ ہے ‘ یعنی لوٹانا اور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت دائود علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوجائیں اور آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ { وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ } ”اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔“