Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Isra' 17:36

17:36
ولا تقف ما ليس لك به علم ان السمع والبصر والفواد كل اولايك كان عنه مسيولا ٣٦
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ ۚ إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًۭا ٣٦
وَلَا
تَقْفُ
مَا
لَیْسَ
لَكَ
بِهٖ
عِلْمٌ ؕ
اِنَّ
السَّمْعَ
وَالْبَصَرَ
وَالْفُؤَادَ
كُلُّ
اُولٰٓىِٕكَ
كَانَ
عَنْهُ
مَسْـُٔوْلًا
۟
Dan janganlah kamu mengikuti sesuatu yang tidak kamu ketahui. Karena pendengaran, penglihatan dan hati nurani, semua itu akan diminta pertanggungjawabannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
بلا تحقیق فیصلہ نہ کرو ٭٭

یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس میں زبان نہ ہلاؤ۔ بغیر علم کے کسی کی عیب جوئی اور بہتان بازی نہ کرو۔ جھوٹی شہادتیں نہ دیتے پھرو۔ بن دیکھے نہ کہہ دیا کرو کہ میں نے دیکھا، نہ بےسنے سننا بیان کرو، نہ بےعلمی پر اپنا جاننا بیان کرو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ غرض وہم خیال اور گمان کے طور پر کچھ کہنا منع ہو رہا ہے۔

جیسے فرمان قرآن ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ» [49-الحجرات:12] ‏ ” زیادہ گمان سے بچو، بعض گمان گناہ ہیں۔ “

حدیث میں ہے گمان سے بچو، گمان بدترین جھوٹی بات ہے۔ [صحیح بخاری:6066] ‏

ابوداؤد کی حدیث میں ہے انسان کا یہ تکیہ کلام بہت ہی برا ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے بدترین بہتان یہ ہے کہ انسان جھوٹ موٹ کوئی خواب گھڑلے۔ [صحیح بخاری:7043] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے جو شخص ایسا خواب از خود گھڑلے قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور یہ اس سے ہرگز نہیں ہونا۔ [صحیح بخاری:7042] ‏

قیامت کے دن آنکھ کان دل سب سے بازپرس ہو گی سب کو جواب دہی کرنی ہو گی۔ یہاں «تِلْکَ» کی جگہ «أُولَٰئِكَ» کا استعمال ہے، عرب میں یہ استعمال برابر جاری ہے یہاں تک کہ شاعروں کے شعروں میں بھی۔ مثلاً «ذم المنازل بعد منزلة اللوى والعيش بعد أولئك الأيام» ۔

صفحہ نمبر4694