Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tawbah 9:86

9:86
واذا انزلت سورة ان امنوا بالله وجاهدوا مع رسوله استاذنك اولو الطول منهم وقالوا ذرنا نكن مع القاعدين ٨٦
وَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَجَـٰهِدُوا۟ مَعَ رَسُولِهِ ٱسْتَـْٔذَنَكَ أُو۟لُوا۟ ٱلطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا۟ ذَرْنَا نَكُن مَّعَ ٱلْقَـٰعِدِينَ ٨٦
وَاِذَاۤ
اُنْزِلَتْ
سُوْرَةٌ
اَنْ
اٰمِنُوْا
بِاللّٰهِ
وَجَاهِدُوْا
مَعَ
رَسُوْلِهِ
اسْتَاْذَنَكَ
اُولُوا
الطَّوْلِ
مِنْهُمْ
وَقَالُوْا
ذَرْنَا
نَكُنْ
مَّعَ
الْقٰعِدِیْنَ
۟
Dan apabila diturunkan suatu surah (yang memerintahkan kepada orang-orang munafik), "Berimanlah kepada Allah dan berjihadlah bersama rasul-Nya, "niscaya orang-orang yang kaya dan berpengaruh di antara mereka meminta izin kepadamu (untuk tidak berjihad) dan mereka berkata, "Biarkanlah kami berada bersama orang-orang yang duduk (tinggal di rumah)."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 9:86 hingga 9:87
باب

ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت، طاقت، قوت ہوتے ہوئے جہاد کے لیے نہیں نکلتے جی چرا جاتے ہیں اور حکم الہٰی سن کر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

ان کی بے حمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہو گئے۔ لشکر چلے گئے یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے اور بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے، یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چنانچہ ایک اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو، اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے اور باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند و بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایماندار تو سورت اترنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے جہاں سورت اتری، اور جہاد کا حکم سنا کہ آنکھیں بند کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اور ان کے لیے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گزار ہوتے اگر ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔

صفحہ نمبر3553