Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tawbah 9:62

9:62
يحلفون بالله لكم ليرضوكم والله ورسوله احق ان يرضوه ان كانوا مومنين ٦٢
يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ ٦٢
یَحْلِفُوْنَ
بِاللّٰهِ
لَكُمْ
لِیُرْضُوْكُمْ ۚ
وَاللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗۤ
اَحَقُّ
اَنْ
یُّرْضُوْهُ
اِنْ
كَانُوْا
مُؤْمِنِیْنَ
۟
Mereka bersumpah kepadamu dengan (nama) Allah untuk menyenangkan kamu, padahal Allah dan Rasul-Nya lebih pantas mereka cari keridaan-Nya jika mereka orang mukmin.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 9:62 hingga 9:63
نادان اور کوڑ مغز کون؟ ٭٭

واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقلمند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے؟

یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اس نے کہا: ”واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کودن پنے میں کوئی شک نہیں۔‏“ جب یہ صحابی رضی اللہ عنہ دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ پروردگار! تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا۔ اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16922:ضعیف و مرسل] ‏

کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ابدی جہنمی ہیں ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع، اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھ کر شقاوت اور کیا ہو گی؟

صفحہ نمبر3509