Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Fatir 35:7

35:7
الذين كفروا لهم عذاب شديد والذين امنوا وعملوا الصالحات لهم مغفرة واجر كبير ٧
ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌۭ كَبِيرٌ ٧
اَلَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لَهُمْ
عَذَابٌ
شَدِیْدٌ ؕ۬
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
لَهُمْ
مَّغْفِرَةٌ
وَّاَجْرٌ
كَبِیْرٌ
۟۠
Orang-orang yang kafir, mereka akan mendapat azab yang sangat keras. Dan orang-orang yang beriman dan mengerjakan kebajikan, mereka memperoleh ampunan dan pahala yang besar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 35:7 hingga 35:8
شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ٭٭

اوپر بیان گزرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لیے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس لیے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہو جائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر و ثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہیئے۔ مقدرات اللہ جاری ہو چکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم کا حکمت سے خالی نہیں۔ لوگوں کے تمام افعال اس پر واضح ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا پس جس پر وہ نور پڑ گیا وہ دنیا میں آ کر سیدھی راہ چلا اور جسے اس دن وہ نور نہ ملا وہ دنیا میں آ کر بھی ہدایت سے بہرہ ورہ نہ ہو سکا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل کر خشک ہو گیا۔ [مسند احمد::176/2حسن] ‏ [ابن ابی حاتم] ‏ اور روایت میں ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا اللہ کے لیے ہر تعریف ہے جو گمراہی سے ہدایت پر لاتا ہے اور جس پر چاہتا ہے گمراہی خلط ملط کر دیتا ہے [طبرانی کبیر:220/5،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔

صفحہ نمبر7246