Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Az-Zumar 39:22

39:22
افمن شرح الله صدره للاسلام فهو على نور من ربه فويل للقاسية قلوبهم من ذكر الله اولايك في ضلال مبين ٢٢
أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَـٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ فَوَيْلٌۭ لِّلْقَـٰسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍ ٢٢
اَفَمَنْ
شَرَحَ
اللّٰهُ
صَدْرَهٗ
لِلْاِسْلَامِ
فَهُوَ
عَلٰی
نُوْرٍ
مِّنْ
رَّبِّهٖ ؕ
فَوَیْلٌ
لِّلْقٰسِیَةِ
قُلُوْبُهُمْ
مِّنْ
ذِكْرِ
اللّٰهِ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
Maka apakah orang-orang yang dibukakan hatinya oleh Allah untuk (menerima) agama Islam lalu dia mendapat cahaya dari Tuhannya (sama dengan orang yang hatinya membatu)? Maka celakalah mereka yang hatinya telah membatu untuk mengingat Allah. Mereka itu dalam kesesatan yang nyata.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 39:21 hingga 39:22
زندگی کی بہترین مثال ٭٭

زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا» ‏ [25-الفرقان:48] ‏ ” ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہو جاتے ہیں “۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہو جاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت میں ان کی جوانی بڑھاپے سے اور سبزی زردے سے بدل جاتی ہے۔ پھر خشک ہو جاتی ہے اور کاٹ لی جاتی ہے۔ کیا اس میں عقل مندوں کے لیے بصیرت و نصیحت نہیں؟ کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ اسی طرح دنیا ہے۔

آج ایک جوان اور خوبصورت نظر آتی ہے کل بڑھیا اور بدصورت ہو جاتی ہے۔ آج ایک شخص نوجوان طاقت مند ہے کل وہی بوڑھا کھوسٹ اور کمزور نظر آتا ہے۔ پھر آخر موت کے پنجے میں پھنستا ہے۔ پس عقلمند انجام پر نظر رکھیں بہتر وہ ہے جس کا انجام بہتر ہو۔ اکثر جگہ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے پیدا شدہ کھیتی کے ساتھ دے گئی ہے جیسے «وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» [18-الكهف:45] ‏ میں ہے۔

پھر فرماتا ہے ” جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل گیا، ذرا سوچو! جس نے رب کے پاس سے نور پا لیا وہ اور سخت سینے اور تنگ دل والا برابر ہو سکتا ہے۔ حق پر قائم اور حق سے دور یکساں ہو سکتے ہیں؟ “

جیسے فرمای ا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [6-الأنعام:122] ‏، ” وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اسے نور عطا فرمایا جسے اپنے ساتھ لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے اور یہ اور وہ جو اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے جن سے چھٹکارا محال ہے۔ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ “ پس یہاں بھی بطور نصیحت بیان فرمایا کہ ” جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑتے احکام الٰہی کو ماننے کے لیے نہیں کھلتے رب کے سامنے عاجزی نہیں کرتے بلکہ سنگدل اور سخت دل ہیں ان کے لیے ویل ہے خرابی اور افسوس و حسرت ہے یہ بالکل گمراہ ہیں “۔

صفحہ نمبر7805