Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Kahf 18:100

18:100
وعرضنا جهنم يوميذ للكافرين عرضا ١٠٠
وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْكَـٰفِرِينَ عَرْضًا ١٠٠
وَّعَرَضْنَا
جَهَنَّمَ
یَوْمَىِٕذٍ
لِّلْكٰفِرِیْنَ
عَرْضَا
۟ۙ
dan Kami perlihatkan (neraka) Jahanam dengan jelas pada hari itu kepada orang kafir,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 18:100 hingga 18:102
جہنم کو دیکھ کر ٭٭

کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] ‏ نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔

صفحہ نمبر5001