Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Anbiya' 21:112

21:112
قال رب احكم بالحق وربنا الرحمان المستعان على ما تصفون ١١٢
قَـٰلَ رَبِّ ٱحْكُم بِٱلْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحْمَـٰنُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١١٢
قٰلَ
رَبِّ
احْكُمْ
بِالْحَقِّ ؕ
وَرَبُّنَا
الرَّحْمٰنُ
الْمُسْتَعَانُ
عَلٰی
مَا
تَصِفُوْنَ
۟۠
Dia (Muhammad) berkata, "Ya Tuhanku, berilah keputusan dengan adil. Dan Tuhan kami Maha Pengasih, tempat memohon segala pertolongan atas semua yang kamu katakan."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 21:108 hingga 21:112
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے “۔

جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ‏ ” اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں “۔

اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» [8-الأنفال:58] ‏ یعنی ” اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو “۔

اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ” اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں “۔

ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ” اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [7-الأعراف:89] ‏ ” میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر5541