Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Maryam 19:9

19:9
قال كذالك قال ربك هو علي هين وقد خلقتك من قبل ولم تك شييا ٩
قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌۭ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْـًۭٔا ٩
قَالَ
كَذٰلِكَ ۚ
قَالَ
رَبُّكَ
هُوَ
عَلَیَّ
هَیِّنٌ
وَّقَدْ
خَلَقْتُكَ
مِنْ
قَبْلُ
وَلَمْ
تَكُ
شَیْـًٔا
۟
(Allah) berfirman, "Demikianlah." Tuhanmu berfirman, "Hal itu mudah bagi-Ku; sungguh, engkau telah Aku ciptakan sebelum itu, padahal (pada waktu itu) engkau belum berwujud sama sekali."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 19:8 hingga 19:9
بشارت قبولیت سن کر ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستبعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت محض ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی، میں بوڑھا اور بے حد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا، خشک ٹہنی جیسا ہو گیا ہوں، گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے، پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہو گی؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب و خوشی دریافت کی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو «عَتِیاً» پڑھتے تھے یا «عَسِیاً» ۔ [سنن ابوداود:809،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرشتے نے جواب دیا کہ ”یہ تو وعدہ ہو چکا، اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہو گا۔ اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے، جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا، وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔‏“

جیسے فرمان ہے «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» [76-الإنسان:1] ‏ یعنی ” یقیناً انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے، جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا “۔

صفحہ نمبر5030