Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nahl 16:25

16:25
ليحملوا اوزارهم كاملة يوم القيامة ومن اوزار الذين يضلونهم بغير علم الا ساء ما يزرون ٢٥
لِيَحْمِلُوٓا۟ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ ٢٥
لِیَحْمِلُوْۤا
اَوْزَارَهُمْ
كَامِلَةً
یَّوْمَ
الْقِیٰمَةِ ۙ
وَمِنْ
اَوْزَارِ
الَّذِیْنَ
یُضِلُّوْنَهُمْ
بِغَیْرِ
عِلْمٍ ؕ
اَلَا
سَآءَ
مَا
یَزِرُوْنَ
۟۠
(ucapan mereka) menyebabkan mereka pada hari Kiamat memikul dosa-dosanya sendiri secara sempurna, dan sebagian dosa-dosa orang yang mereka sesatkan yang tidak mengetahui sedikit pun (bahwa mereka disesatkan). Ingatlah, alangkah buruknya (dosa) yang mereka pikul itu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 16:24 hingga 16:25
قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ٭٭

ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ «وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5] ‏ ” سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے؟ وہی لکھ لیے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں “۔

پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں -دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کاھن، کبھی مجنون۔

پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے غور و خوض کے بعد کہا کہ سب مل کر اس کلام کو مؤثر جادو کہا کرو۔ ان کے اس قول کا نتیجہ بد ہوگا اور ہم نے انہیں اس راہ پر اس لیے لگا دیا ہے کہ یہ اپنے پورے گناہوں کے ساتھ ان کے بھی کچھ گناہ اپنے اوپر لادیں جو ان کے مقلد ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے ہدایت کی دعوت دینے والے کو اپنے اجر کے ساتھ اپنے متبع لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے لیکن ان کے اجر کم نہیں ہوتے اور برائی کی طرف بلانے والوں کو ان کی ماننے والوں کے گناہ بھی ملتے ہیں لیکن ماننے والوں کے گناہ کم ہو کر نہیں ۔ [صحیح مسلم:2676] ‏

قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنکبوت:13] ‏ ” یہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ہی ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے افترا کا سوال ان سے قیامت کے دن ہونا ضروری ہے “۔

پس ماننے والوں کے بوجھ گو ان کی گردنوں پر ہیں لیکن وہ بھی ہلکے نہیں ہوں گے۔

صفحہ نمبر4429