Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nahl 16:125

16:125
ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي احسن ان ربك هو اعلم بمن ضل عن سبيله وهو اعلم بالمهتدين ١٢٥
ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ وَٱلْمَوْعِظَةِ ٱلْحَسَنَةِ ۖ وَجَـٰدِلْهُم بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ ١٢٥
اُدْعُ
اِلٰی
سَبِیْلِ
رَبِّكَ
بِالْحِكْمَةِ
وَالْمَوْعِظَةِ
الْحَسَنَةِ
وَجَادِلْهُمْ
بِالَّتِیْ
هِیَ
اَحْسَنُ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
هُوَ
اَعْلَمُ
بِمَنْ
ضَلَّ
عَنْ
سَبِیْلِهٖ
وَهُوَ
اَعْلَمُ
بِالْمُهْتَدِیْنَ
۟
Serulah (manusia) kepada jalan Tuhanmu dengan hikmah1 dan pengajaran yang baik, dan berdebatlah dengan mereka dengan cara yang baik. Sesungguhnya Tuhanmu, Dialah yang lebih mengetahui siapa yang sesat dari jalan-Nya dan Dialah yang lebih mengetahui siapa yang mendapat petunjuk.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں “۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر رحمہ اللہ ”کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں۔‏“ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ» [29-العنكبوت:46] ‏ الخ، ” اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو “، الخ۔

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى» [20-طه:44] ‏ ” اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے “۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے۔ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے۔ حساب ہم آپ لیں گے۔ «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» [28-القصص:56] ‏ ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے “۔

صفحہ نمبر4559