Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nahl 16:116

16:116
ولا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هاذا حلال وهاذا حرام لتفتروا على الله الكذب ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون ١١٦
وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلٌۭ وَهَـٰذَا حَرَامٌۭ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ١١٦
وَلَا
تَقُوْلُوْا
لِمَا
تَصِفُ
اَلْسِنَتُكُمُ
الْكَذِبَ
هٰذَا
حَلٰلٌ
وَّهٰذَا
حَرَامٌ
لِّتَفْتَرُوْا
عَلَی
اللّٰهِ
الْكَذِبَ ؕ
اِنَّ
الَّذِیْنَ
یَفْتَرُوْنَ
عَلَی
اللّٰهِ
الْكَذِبَ
لَا
یُفْلِحُوْنَ
۟ؕ
Dan janganlah kamu mengatakan terhadap apa yang disebut-sebut oleh lidahmu secara dusta "Ini halal dan ini haram," untuk mengada-adakan kebohongan terhadap Allah. Sesungguhnya orang yang mengada-adakan kebohongan terhadap Allah tidak akan beruntung.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 16:114 hingga 16:117
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لیے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔

پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بے بس، لاچار، عاجز، محتاج، بے قرار ہو جائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کر لیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ ” اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو “۔

اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ «لِمَا تَصِفُ» میں «ما» مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑلو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہو جاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان:24] ‏ ” یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بے بسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے “۔

جیسے فرمان الٰہی ہے «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-يونس:79-80] ‏ ” اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے “۔

صفحہ نمبر4546