Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Qasas Ayah 77

28:77
وابتغ فيما اتاك الله الدار الاخرة ولا تنس نصيبك من الدنيا واحسن كما احسن الله اليك ولا تبغ الفساد في الارض ان الله لا يحب المفسدين ٧٧
وَٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ ٧٧
وَابْتَغِ
فِیْمَاۤ
اٰتٰىكَ
اللّٰهُ
الدَّارَ
الْاٰخِرَةَ
وَلَا
تَنْسَ
نَصِیْبَكَ
مِنَ
الدُّنْیَا
وَاَحْسِنْ
كَمَاۤ
اَحْسَنَ
اللّٰهُ
اِلَیْكَ
وَلَا
تَبْغِ
الْفَسَادَ
فِی
الْاَرْضِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یُحِبُّ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
Dan carilah (pahala) negeri akhirat dengan apa yang telah dianugerahkan Allah kepadamu, tetapi janganlah kamu lupakan bagianmu di dunia dan berbuat baiklah (kepada orang lain) sebagaimana Allah telah berbuat baik kepadamu, dan janganlah kamu berbuat kerusakan di bumi. Sungguh, Allah tidak menyukai orang yang berbuat kerusakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 28:76 hingga 28:77

قارون کا نام یہودی کتابوں میں قورح (Korah) آیا ہے۔ وہ بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا۔ مگر وہ اپنی قوم سے کٹ کر فرعون کا وفادار بن گیا۔ اس کی اسے یہ قیمت ملی کہ وہ فرعون کا مقرب بن گیا۔ اس نے اپنی دنیا دارانہ صلاحیت کے ذریعے اتنا کمایا کہ وہ مصر کا سب سے زیادہ دولت مند شخص بن گیا۔ دولت پاکر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہيے تھا۔ مگر دولت نے اس کے اندر فخر کا جذبہ پیدا کیا۔ اپنے معاشی وسائل سے اس کو جو نیکی کمانی چاہيے تھی وہ نیکی اس نے نہیں کمائی۔

زمین میں فساد کرنا کیا ہے۔ اس آیت 77 کے مطابق، زمین میں فساد برپا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک شخص کو زیادہ دولت ملے تو وہ اس کو صرف اپنی ذات کے لیے خرچ کرے۔ سمندر میں زمین کا پانی آکر جمع ہوتاہے تو سمندر پانی کو بھاپ کی شکل میں اڑا کردوبارہ اس کو پوری زمین پر پھیلا دیتاہے۔ یہ خدا کی دنیا میں اصلاح کا ایک نمونہ ہے۔ یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ اگر کسی وجہ سے ایک شخص کے پاس زیادہ دولت اكٹھاہوجائے تو اس کو چاہيے کہ وہ اس کو مختلف طریقوں سے ان لوگوں کی طرف لوٹائے جنھیں معاشی تقسیم میں کم حصہ ملا ہے۔ گویا جمع شدہ دولت کو گردش میں لانا اصلاح ہے اور جمع شدہ دولت کو جمع رکھنا فساد۔