Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Haqqah 69:4

69:4
كذبت ثمود وعاد بالقارعة ٤
كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌۢ بِٱلْقَارِعَةِ ٤
كَذَّبَتْ
ثَمُوْدُ
وَعَادٌ
بِالْقَارِعَةِ
۟
Kaum Samud, dan 'Ād telah mendustakan hari Kiamat.1
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 69:1 hingga 69:5
حاقہ ٭٭

«حَاقَّه» قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لیے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” تم اس «حاقہ» کی صحیح کیفیت سے بے خبر ہو “، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا: ” ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ و بالا ہو جاتے ہیں۔ “

پس بقول قتادہ رحمہ اللہ «طَّاغِيَةِ» کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے۔

سیدنا ربیع بن انس اور سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے۔ سیدنا ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی «كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ» [91-الشمس:11] ‏ یعنی ” ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا۔ “ یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں اور قوم عاد کی ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر9731