Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Munafiqun Ayah 7

63:7
هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا ولله خزاين السماوات والارض ولاكن المنافقين لا يفقهون ٧
هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا۟ عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا۟ ۗ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَـٰكِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ٧
هُمُ
الَّذِیْنَ
یَقُوْلُوْنَ
لَا
تُنْفِقُوْا
عَلٰی
مَنْ
عِنْدَ
رَسُوْلِ
اللّٰهِ
حَتّٰی
یَنْفَضُّوْا ؕ
وَلِلّٰهِ
خَزَآىِٕنُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَلٰكِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ
لَا
یَفْقَهُوْنَ
۟
Mereka yang berkata (kepada orang-orang Ansar), "Janganlah kamu bersedekah kepada orang-orang (Muhajirin) yang ada di sisi Rasulullah sampai mereka bubar (meninggalkan Rasulullah)." Padahal milik Allah lah perbendaharaan langit dan bumi, tetapi orang-orang munafik itu tidak memahami.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 63:7 hingga 63:8

قدیم مدینہ میں دو قسم کے مسلمان تھے۔ ایک مہاجر اور دوسرے انصار۔ مہاجرین مکہ سے بے وطن ہو کر آئے تھے۔ ان کا سب سے بڑا ظاہری سہارا مقامی مسلمان (انصار) تھے۔ اس بنا پر دنیا پرست لوگوں کو مہاجر بے عزت دکھائی دیتے تھے اور انصار ان کی نظر میں باعزت لوگ تھے۔ حتی کہ ایک موقع پر عبداللہ بن ابی نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ان مہاجرین کی حقیقت کیا ہے۔ اگر ہم ان کو اپنی بستی سے نکال دیں تو دنیا میں کہیں ان کو ٹھکانا نہ ملے۔

اس قسم کے الفاظ اسی شخص کی زبان سے نکل سکتے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہے دے اور وہی جس سے چاہے چھین لے۔