Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Ibrahim 14:38

14:38
ربنا انك تعلم ما نخفي وما نعلن وما يخفى على الله من شيء في الارض ولا في السماء ٣٨
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِى وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ ٣٨
رَبَّنَاۤ
اِنَّكَ
تَعْلَمُ
مَا
نُخْفِیْ
وَمَا
نُعْلِنُ ؕ
وَمَا
یَخْفٰی
عَلَی
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ
فِی
الْاَرْضِ
وَلَا
فِی
السَّمَآءِ
۟
Ya Tuhan kami, sesungguhnya Engkau mengetahui apa yang kami sembunyikan dan apa yang kami tampakkan; dan tidak ada sesuatu pun yang tersembunyi bagi Allah, baik yang ada di bumi maupun yang ada di langit.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 14:38 hingga 14:41
مناجات ٭٭

خلیل الرحمن علیہ السلام اپنی مناجات میں فرماتے ہیں کہ ”اے اللہ تو میرے ارادے اور میرے مقصود کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری چاہت ہے کہ یہاں کے رہنے والے تیری رضا کے طالب اور فقط تیری طرف راغب رہیں۔ ظاہر و باطن تجھ پر روشن ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کا حل تجھ پر کھلا ہے۔ تیرا احسان ہے کہ اس پورے بڑھاپے میں تو نے میرے ہاں اولاد عطا فرمائی اور ایک پر ایک بچہ دیا۔ اسماعیل بھی، اسحاق بھی۔ تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے میں نے مانگا تو نے دیا پس تیرا شکر ہے۔ اے اللہ مجھے نمازوں کا پابند بنا اور میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ قائم رکھ۔ میری تمام دعائیں قبول فرما۔‏“

«وَلِوَالِدَيَّ» کی قرأت بعض نے «وَالِوَالِدِیْ» بھی کی ہے یہ بھی یاد رہے کہ یہ دعا اس سے پہلے کی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو جائے کہ آپ علیہ السلام کا والد اللہ کی دشمنی پر ہی مرا ہے۔ جب یہ ظاہر ہوگیا تو آپ علیہ السلام اپنے والد سے بیزار ہوگئے۔ پس یہاں آپ علیہ السلام اپنے ماں باپ کی اور تمام مومنوں کی خطاؤں کی معافی اللہ سے چاہتے ہیں کہ اعمال کے حساب اور بدلے کے دن قصور معاف ہوں۔

صفحہ نمبر4254