Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
11:52
ويا قوم استغفروا ربكم ثم توبوا اليه يرسل السماء عليكم مدرارا ويزدكم قوة الى قوتكم ولا تتولوا مجرمين ٥٢
وَيَـٰقَوْمِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًۭا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا۟ مُجْرِمِينَ ٥٢
وَیٰقَوْمِ
اسْتَغْفِرُوْا
رَبَّكُمْ
ثُمَّ
تُوْبُوْۤا
اِلَیْهِ
یُرْسِلِ
السَّمَآءَ
عَلَیْكُمْ
مِّدْرَارًا
وَّیَزِدْكُمْ
قُوَّةً
اِلٰی
قُوَّتِكُمْ
وَلَا
تَتَوَلَّوْا
مُجْرِمِیْنَ
۟
Dan (Hud berkata), "Wahai kaumku! Mohonlah ampunan kepada Tuhanmu lalu bertobatlah kepada-Nya, niscaya Dia menurunkan hujan yang sangat deras, Dia akan menambahkan kekuatan di atas kekuatanmu, dan janganlah kamu berpaling menjadi orang yang berdosa."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 11:50 hingga 11:52
قوم ہود کی تاریخ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔

سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا» [71-نوح:11] ‏ تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔

حدیث شریف میں ہے جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ [سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3859