Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Hud 11:5

11:5
الا انهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه الا حين يستغشون ثيابهم يعلم ما يسرون وما يعلنون انه عليم بذات الصدور ٥
أَلَآ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٥
اَلَاۤ
اِنَّهُمْ
یَثْنُوْنَ
صُدُوْرَهُمْ
لِیَسْتَخْفُوْا
مِنْهُ ؕ
اَلَا
حِیْنَ
یَسْتَغْشُوْنَ
ثِیَابَهُمْ ۙ
یَعْلَمُ
مَا
یُسِرُّوْنَ
وَمَا
یُعْلِنُوْنَ ۚ
اِنَّهٗ
عَلِیْمٌۢ
بِذَاتِ
الصُّدُوْرِ
۟
Ingatlah, sesungguhnya mereka (orang-orang munafik) memalingkan dada untuk menyembunyikan diri dari dia (Muhammad).1 Ingatlah, ketika mereka menyelimuti dirinya dengan kain, Allah mengetahui apa yang mereka sembunyikan dan apa yang mereka nyatakan, sungguh, Allah Maha Mengetahui (segala) isi hati.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
اندھیروں کی چادروں میں موجود ہر چیز کو دیکھتا ہے ٭٭

ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرآت میں «تَـثْـنُـوْنـِیْ» ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔‏“ [صحیح بخاری:4681] ‏

وہ اپنے سروں کو ڈھاپ لیتے اور یہ بھی مراد ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں شک کرتے تھے اور کام برائی کے کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ”برے کام یا برے عمل کے وقت وہ جھک جھک کر اپنے سینے دوہرے کر ڈالتے گویا کہ وہ اللہ سے شرما رہے ہیں، اور اس سے چھپ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” راتوں کو کپڑے اوڑھے ہوئے بھی جو تم کرتے ہو اس سے بھی اللہ تو خبردار ہے۔ جو چھپاؤ جو کھولو، جو دلوں اور سینوں میں رکھو، وہ سب کو جانتا ہے، دل کے بھید سینے کے راز اور ہر ایک پوشیدگی اس پر ظاہر ہے “۔

زہیر بن ابوسلمہ اپنے مشہور معلقہ میں کہتا ہے کہ ”تمہارے دلوں کی کوئی بات اللہ تعالیٰ پر چھپی ہوئی نہیں، تم گو کسی خیال میں ہو لیکن یاد رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ممکن ہے کہ تمہارے بد خیالات پر وہ تمہیں یہیں سزا کرے اور ہو سکتا ہے کہ وہ نامہ اعمال میں لکھ لیے جائیں اور قیامت کے دن پیش کئے جائیں“ یہ جاہلیت کا شاعر ہے۔ اسے اللہ کا، اس کے کامل علم کا، قیامت کا اور اس دن کی جزا سزا کا، اعمال نامے کا اور قیامت کے دن اس کے پیش ہونے کا اقرار ہے۔

صفحہ نمبر3795

اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ” یہ لوگ جب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم کے پاس سے گزرتے تو سینہ موڑ لیتے اور سر ڈھانپ لیتے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17953:مرسل] ‏

آیت میں «لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ سے چھپنا چاہتے ہیں یہی اولیٰ ہے کیونکہ اسی کے بعد ہے کہ جب یہ لوگ سوتے وقت کپڑے اوڑھ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام افعال کا جو وہ چھپ کر کریں اور جو ظاہر کریں علم ہوتا ہے

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَلَا إِنِّهُمْ تَثْنُونِي صُدُورُهُمْ» ہے۔ اس قرأت پر بھی معنی تقریباً یکساں ہیں۔

صفحہ نمبر3796