Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
11:111
وان كلا لما ليوفينهم ربك اعمالهم انه بما يعملون خبير ١١١
وَإِنَّ كُلًّۭا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَـٰلَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ١١١
وَاِنَّ
كُلًّا
لَّمَّا
لَیُوَفِّیَنَّهُمْ
رَبُّكَ
اَعْمَالَهُمْ ؕ
اِنَّهٗ
بِمَا
یَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرٌ
۟
Dan sesungguhnya kepada masing-masing (yang berselisih itu) pasti Tuhanmu akan memberi balasan secara penuh atas perbuatan mereka. Sungguh, Dia Mahateliti atas apa yang mereka kerjakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 11:109 hingga 11:111
مشرکوں کا حشر ٭٭

مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» [20-طه:129-130] ‏ ” چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره “۔

کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

صفحہ نمبر3925