Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Hud Ayah 101

11:101
وما ظلمناهم ولاكن ظلموا انفسهم فما اغنت عنهم الهتهم التي يدعون من دون الله من شيء لما جاء امر ربك وما زادوهم غير تتبيب ١٠١
وَمَا ظَلَمْنَـٰهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ۖ فَمَآ أَغْنَتْ عَنْهُمْ ءَالِهَتُهُمُ ٱلَّتِى يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ لَّمَّا جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍۢ ١٠١
وَمَا
ظَلَمْنٰهُمْ
وَلٰكِنْ
ظَلَمُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
فَمَاۤ
اَغْنَتْ
عَنْهُمْ
اٰلِهَتُهُمُ
الَّتِیْ
یَدْعُوْنَ
مِنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ
لَّمَّا
جَآءَ
اَمْرُ
رَبِّكَ ؕ
وَمَا
زَادُوْهُمْ
غَیْرَ
تَتْبِیْبٍ
۟
Dan Kami tidak menzalimi mereka, tetapi merekalah yang menzalimi diri mereka sendiri, karena itu tidak bermanfaat sedikit pun bagi mereka sesembahan yang mereka sembah selain Allah, ketika siksaan Tuhanmu datang. Sesembahan itu hanya menambah kebinasaan bagi mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 11:100 hingga 11:101

قدیم تاریخوںمیں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھيے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوںاور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کردی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑدی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔

دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں، جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت ناپید ہوگئیں۔ البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد كيے گئے ہیں۔

ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھيے کہ کیوں ایسا ہوا تو عین مطابق حقیقت بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی بد عملی کے نتائج تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی بدکرداری کے بعد ہوا، نہ کہ ان کی بدکرداری سے پہلے۔

جب بھی آدمی سرکشی اور ظلم کرتاہے تو وہ کسی برتے پر کرتا ہے۔ وہ کچھ چیزوں یا ہستیوں کو اپنا سہارا سمجھ لیتاہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ مشکل وقتوں میںاس کے مدد گار ثابت ہوں گے۔ مگر یہ سہارے اسی وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدّت ختم ہوجائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کردے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتاہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔