Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Jumu'ah Ayah 11

62:11
واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قايما قل ما عند الله خير من اللهو ومن التجارة والله خير الرازقين ١١
وَإِذَا رَأَوْا۟ تِجَـٰرَةً أَوْ لَهْوًا ٱنفَضُّوٓا۟ إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمًۭا ۚ قُلْ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهْوِ وَمِنَ ٱلتِّجَـٰرَةِ ۚ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ١١
وَاِذَا
رَاَوْا
تِجَارَةً
اَوْ
لَهْوَا
نْفَضُّوْۤا
اِلَیْهَا
وَتَرَكُوْكَ
قَآىِٕمًا ؕ
قُلْ
مَا
عِنْدَ
اللّٰهِ
خَیْرٌ
مِّنَ
اللَّهْوِ
وَمِنَ
التِّجَارَةِ ؕ
وَاللّٰهُ
خَیْرُ
الرّٰزِقِیْنَ
۟۠
Dan apabila mereka melihat perdagangan atau permainan, mereka segera menuju kepadanya dan mereka tinggalkan engkau (Muhammad) sedang berdiri (berkhotbah). Katakanlah, "Apa yang ada di sisi Allah lebih baik daripada permainan dan perdagangan," dan Allah Pemberi rezeki yang terbaik.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 62:9 hingga 63:3

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔