Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Hajj 22:18

22:18
الم تر ان الله يسجد له من في السماوات ومن في الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدواب وكثير من الناس وكثير حق عليه العذاب ومن يهن الله فما له من مكرم ان الله يفعل ما يشاء ۩ ١٨
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسْجُدُ لَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلْجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ وَكَثِيرٌۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ ٱلْعَذَابُ ۗ وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكْرِمٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ ۩ ١٨
اَلَمْ
تَرَ
اَنَّ
اللّٰهَ
یَسْجُدُ
لَهٗ
مَنْ
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَمَنْ
فِی
الْاَرْضِ
وَالشَّمْسُ
وَالْقَمَرُ
وَالنُّجُوْمُ
وَالْجِبَالُ
وَالشَّجَرُ
وَالدَّوَآبُّ
وَكَثِیْرٌ
مِّنَ
النَّاسِ ؕ
وَكَثِیْرٌ
حَقَّ
عَلَیْهِ
الْعَذَابُ ؕ
وَمَنْ
یُّهِنِ
اللّٰهُ
فَمَا
لَهٗ
مِنْ
مُّكْرِمٍ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَفْعَلُ
مَا
یَشَآءُ
۟
Tidakkah engkau tahu bahwa siapa yang ada di langit dan siapa yang ada di bumi bersujud kepada Allah, (demikian) juga matahari, bulan, bintang, gunung-gunung, pohon-pohon, hewan-hewan yang melata dan banyak di antara manusia (yang sujud). Tetapi banyak (juga manusia) yang pantas mendapatkan azab. Barangsiapa dihinakan Allah, tidak seorang pun yang akan memuliakannya. Sungguh, Allah berbuat apa saja yang Dia kehendaki.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

الم تر …………ما یشآء (18)

جب انسان اس آیت پر غور کرتا ہے تو ایک کثیر التعداد مخلوق خدا ، جو نظر آتی ، جو نظر نہیں آتی ، آسمانوں میں اور اجرام فلکی میں ، وہ چیزیں جو نظر آتی ہیں اور جو نظر نہیں آتی ہیں ، پھر جو نہایت ہی حساس آلات کی مدد سے نظر آتی ہیں ، لاتعداد پہاڑ ، درخت ، زمین پر چنلے والے حیوانات ، اور پرندے چرندے ، غرض مخلوقات الٰہی کا یہ سیلاب اللہ کے سامنے سربسجود ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ نہایت ہی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہے لیکن اگر اس مخلوق میں کوئی نافرمان ہے تو وہ انسان ہے۔ یہ واحد مخلوق ہے جو جسورانہ انداز میں نافرمانی کرتی ہے۔

وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ العذاب (22 : 18) ” بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ “ یعنی اللہ کی طرف جھکنے والی اور سجدہ ریز ہونے والی اس مخلوق میں انسان ہی ایک عجیب چیز نظر آتا ہے۔

چناچہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جس پر میرا عذاب حق ہوگیا یعنی وہ اس کا مستحق ہوگیا تو وہ ذلیل ہوگیا۔

ومن یھن اللہ فما لہ من مکرم (22 : 18) ” اور اللہ جسے ذلیل و خوار کر دے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے “۔ لہٰذا عزت وہی ہے جو اللہ دے۔ طاقت وہی ہے جو اللہ نے دی ہو۔ جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے بھی جھکا دو ذلیل و خوار ہوا۔

اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر جس میں اللہ کا اکرام اور اللہ کی تذلیل صاف صاف یوں نظرتی ہے جیسا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اسکرین پر یہ سب کچھ موجود ہے ، ذرا اسکرین پر دیکھیے۔