Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-Hajj Ayah 17

22:17
ان الذين امنوا والذين هادوا والصابيين والنصارى والمجوس والذين اشركوا ان الله يفصل بينهم يوم القيامة ان الله على كل شيء شهيد ١٧
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ وَٱلْمَجُوسَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ ١٧
اِنَّ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَالَّذِیْنَ
هَادُوْا
وَالصّٰبِـِٕیْنَ
وَالنَّصٰرٰی
وَالْمَجُوْسَ
وَالَّذِیْنَ
اَشْرَكُوْۤا ۖۗ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَفْصِلُ
بَیْنَهُمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
شَهِیْدٌ
۟
Sesungguhnya orang-orang beriman, orang Yahudi, orang Sabiin, orang Nasrani, orang Majusi dan orang musyrik, Allah pasti memberi keputusan di antara mereka pada hari Kiamat. Sungguh, Allah menjadi saksi atas segala sesuatu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

اس آیت میں چھ مذہبی گروہوں کا ذکر ہے— مسلمان، یہودی، صابئی، نصاریٰ، مجوس اور مشرکین مکہ۔ یہودی حضرت موسیٰ کو ماننے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح صابئی حضرت یحيىٰ کو ماننے والے تھے۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو، مجوس زرتشت کو اور مشرکین حضرت ابراہیم کو۔

یہ سارے لوگ ابتداء ً توحید پرست تھے۔مگر بعد کو انھوں نے اپنے دین میں بگاڑ پیدا کرلیا۔ اور اب وہ اسی بگڑے ہوئے دین پر قائم ہیں۔ مسلمانوں کاحال بھی عملاً ایسا ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کی کتاب اگر چہ محفوظ ہے۔ مگر امتحان کی اس دنیا میں ان کے ہاتھ اس سے بندھے ہوئے نہیں ہیں کہ وہ قرآن وسنت کی خود ساختہ تشریح کرکے اپنا ایک دین بنائیں اور اس خود ساختہ دین پر قائم ہو کر سمجھیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔

خدا کا اصل دین ایک ہے۔ مگر لوگوں کی اپنی تشریحات میں وہ ہمیشہ مختلف ہوجاتا ہے۔ اس لیے جب لوگ خدا کے اصل دین پر ہوں تو ان کے درمیان اتحاد فروغ پاتا ہے۔ مگر جب لوگ خود ساختہ دین پر چلنے لگیں تو ہمیشہ ان کے درمیان مذہبی اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ اختلافات لامتناہی طورپر بڑھتے ہیں۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کا حال پوری طرح معلوم ہے۔ وہ قیامت میں بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔