Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Ar-Ra'd 13:36

13:36
والذين اتيناهم الكتاب يفرحون بما انزل اليك ومن الاحزاب من ينكر بعضه قل انما امرت ان اعبد الله ولا اشرك به اليه ادعو واليه ماب ٣٦
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ ٣٦
وَالَّذِیْنَ
اٰتَیْنٰهُمُ
الْكِتٰبَ
یَفْرَحُوْنَ
بِمَاۤ
اُنْزِلَ
اِلَیْكَ
وَمِنَ
الْاَحْزَابِ
مَنْ
یُّنْكِرُ
بَعْضَهٗ ؕ
قُلْ
اِنَّمَاۤ
اُمِرْتُ
اَنْ
اَعْبُدَ
اللّٰهَ
وَلَاۤ
اُشْرِكَ
بِهٖ ؕ
اِلَیْهِ
اَدْعُوْا
وَاِلَیْهِ
مَاٰبِ
۟
Dan orang yang telah Kami berikan kitab kepada mereka1 bergembira dengan apa (Kitab) yang diturunkan kepadamu (Muhammad), dan ada di antara golongan (Yahudi dan Nasrani), yang mengingkari sebagiannya. Katakanlah, "Aku hanya diperintah untuk menyembah Allah dan tidak mempersekutukan-Nya. Hanya kepada-Nya aku seru (manusia) dan hanya kepada-Nya aku kembali."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 13:36 hingga 13:37
شاداں و فرحاں لوگ ٭٭

” جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں و فرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے “۔

جیسے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ» [2-البقرة:211] ‏ میں ہے کہ ” اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں “۔

«قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الإسراء:107،108] ‏ ” اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے ہیں “۔

” ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے “، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، ” تو اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الٰہی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے “۔

” جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آ سکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے “۔

” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آ چکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا “۔

سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لیے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔

صفحہ نمبر4174