Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Ahzab 33:16

33:16
قل لن ينفعكم الفرار ان فررتم من الموت او القتل واذا لا تمتعون الا قليلا ١٦
قُل لَّن يَنفَعَكُمُ ٱلْفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ ٱلْمَوْتِ أَوِ ٱلْقَتْلِ وَإِذًۭا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا ١٦
قُلْ
لَّنْ
یَّنْفَعَكُمُ
الْفِرَارُ
اِنْ
فَرَرْتُمْ
مِّنَ
الْمَوْتِ
اَوِ
الْقَتْلِ
وَاِذًا
لَّا
تُمَتَّعُوْنَ
اِلَّا
قَلِیْلًا
۟
Katakanlah (Muhammad), "Lari tidaklah berguna bagimu, jika kamu melarikan diri dari kematian atau pembunuhan, dan jika demikian (kamu terhindar dari kematian) kamu hanya akan mengecap kesenangan sebentar saja."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 33:14 hingga 33:17
جہاد سے پیٹھ پھیرنے والوں سے بازپرس ہو گی ٭٭

جو لوگ یہ عذر کر کے جہاد سے بھاگ رہے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے پڑے ہیں جن کا بیان اوپر گزرا۔ ان کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ ” اگر ان پر دشمن مدینے کے چو طرف سے اور ہر ہر رخ سے آ جائے پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کیا جائے تو یہ بے تامل کفر کو قبول کر لیں گے لیکن تھوڑے خوف اور خیالی دہشت کی بنا پر ایمان سے دست برداری کر رہے ہیں “۔ یہ ان کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر6980

پھر فرماتا ہے ” یہی تو ہیں جو اس سے پہلے لمبی لمبی ڈینگیں مارتے تھے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے ہم میدان جنگ سے پیٹھ پھیرنے والے نہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ جو وعدے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بازپرس کرے گا “۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” یہ موت و فوت سے بھاگنا لڑائی سے منہ چھپانا میدان میں پیٹھ دکھانا جان نہیں بچاسکتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک پکڑ کے جلد آجانے کا باعث ہو جائے اور دنیا کا تھوڑا سا نفع بھی حاصل نہ ہو سکے۔ حالانکہ دنیا تو آخرت جیسی باقی چیز کے مقابلے پر کل کی کل حقیر اور محض ناچیز ہے “۔

پھر فرمایا کہ ” بجز اللہ کے کوئی نہ دے سکے نہ دل اس کے نہ مددگاری کر سکے نہ حمایت پر آ سکے۔ اللہ اپنے ارادوں کو پورا کر کے ہی رہتا ہے “۔

صفحہ نمبر6981