Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Najm Ayah 23

53:23
ان هي الا اسماء سميتموها انتم واباوكم ما انزل الله بها من سلطان ان يتبعون الا الظن وما تهوى الانفس ولقد جاءهم من ربهم الهدى ٢٣
إِنْ هِىَ إِلَّآ أَسْمَآءٌۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهْوَى ٱلْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلْهُدَىٰٓ ٢٣
اِنْ
هِیَ
اِلَّاۤ
اَسْمَآءٌ
سَمَّیْتُمُوْهَاۤ
اَنْتُمْ
وَاٰبَآؤُكُمْ
مَّاۤ
اَنْزَلَ
اللّٰهُ
بِهَا
مِنْ
سُلْطٰنٍ ؕ
اِنْ
یَّتَّبِعُوْنَ
اِلَّا
الظَّنَّ
وَمَا
تَهْوَی
الْاَنْفُسُ ۚ
وَلَقَدْ
جَآءَهُمْ
مِّنْ
رَّبِّهِمُ
الْهُدٰی
۟ؕ
Itu tidak lain hanyalah nama-nama yang kamu dan nenek moyangmu mengada-adakannya; Allah tidak menurunkan suatu keterangan apa pun untuk (menyembah)nya. Mereka hanya mengikuti dugaan, dan apa yang diingini oleh keinginannya. Padahal sungguh, telah datang petunjuk dari Tuhan mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 53:1 hingga 53:25

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔

’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔