Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 7

6:7
ولو نزلنا عليك كتابا في قرطاس فلمسوه بايديهم لقال الذين كفروا ان هاذا الا سحر مبين ٧
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَـٰبًۭا فِى قِرْطَاسٍۢ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ ٧
وَلَوْ
نَزَّلْنَا
عَلَیْكَ
كِتٰبًا
فِیْ
قِرْطَاسٍ
فَلَمَسُوْهُ
بِاَیْدِیْهِمْ
لَقَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اِنْ
هٰذَاۤ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
Dan sekiranya Kami turunkan kepadamu (Muhammad) tulisan di atas kertas, lalu mereka dapat memegangnya dengan tangan mereka sendiri, niscaya orang-orang kafir itu akan berkata, "Ini tidak lain hanyalah sihir yang nyata."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 6:7 hingga 6:10

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔

ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔