Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-An'am 6:61

6:61
وهو القاهر فوق عباده ويرسل عليكم حفظة حتى اذا جاء احدكم الموت توفته رسلنا وهم لا يفرطون ٦١
وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ٦١
وَهُوَ
الْقَاهِرُ
فَوْقَ
عِبَادِهٖ
وَیُرْسِلُ
عَلَیْكُمْ
حَفَظَةً ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
جَآءَ
اَحَدَكُمُ
الْمَوْتُ
تَوَفَّتْهُ
رُسُلُنَا
وَهُمْ
لَا
یُفَرِّطُوْنَ
۟
Dan Dialah Penguasa mutlak atas semua hamba-Nya, dan di utus-Nya kepadamu malaikat-malaikat penjaga, sehingga apabila kematian datang kepada salah seorang di antara kamu, maka malaikat-malaikat Kami mencabut nyawanya dan mereka tidak melalaikan tugasnya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 61 وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط۔اللہ تعالیٰ کی مشیت سے انسان کو اپنی اجل معیّن تک بہر صورت زندہ رہنا ہے ‘ اس لیے ہر انسان کے ساتھ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے اس کے باڈی گارڈز کی حیثیت سے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ چناچہ کبھی انسان کو ایسا حادثہ بھی پیش آتا ہے جب زندہ بچ جانے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا ‘ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ہاتھ دے کر اسے بچایا لیاہو۔ بہر حال جب تک انسان کی موت کا وقت نہیں آتا ‘ یہ محافظ اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُوْنَ اب یہاں پھر لفظ تَوَفّٰی شعور اور جان دونوں کے جانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے جان نکالنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے ‘ جب دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔