Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Rum Ayah 53

30:53
وما انت بهاد العمي عن ضلالتهم ان تسمع الا من يومن باياتنا فهم مسلمون ٥٣
وَمَآ أَنتَ بِهَـٰدِ ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ ٥٣
وَمَاۤ
اَنْتَ
بِهٰدِ
الْعُمْیِ
عَنْ
ضَلٰلَتِهِمْ ؕ
اِنْ
تُسْمِعُ
اِلَّا
مَنْ
یُّؤْمِنُ
بِاٰیٰتِنَا
فَهُمْ
مُّسْلِمُوْنَ
۟۠
Dan engkau tidak akan dapat memberi petunjuk kepada orang-orang yang buta (mata hatinya) dari kesesatannya. Dan engkau tidak dapat memperdengarkan (petunjuk Tuhan) kecuali kepada orang-orang yang beriman dengan ayat-ayat Kami, maka mereka itulah orang-orang yang berserah diri (kepada Kami).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 30:48 hingga 30:53

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔

خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔