Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Rum Ayah 50

30:50
فانظر الى اثار رحمت الله كيف يحيي الارض بعد موتها ان ذالك لمحيي الموتى وهو على كل شيء قدير ٥٠
فَٱنظُرْ إِلَىٰٓ ءَاثَـٰرِ رَحْمَتِ ٱللَّهِ كَيْفَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٥٠
فَانْظُرْ
اِلٰۤی
اٰثٰرِ
رَحْمَتِ
اللّٰهِ
كَیْفَ
یُحْیِ
الْاَرْضَ
بَعْدَ
مَوْتِهَا ؕ
اِنَّ
ذٰلِكَ
لَمُحْیِ
الْمَوْتٰى ۚ
وَهُوَ
عَلٰى
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
Maka perhatikanlah bekas-bekas rahmat Allah, bagaimana Allah menghidupkan bumi setelah mati (kering). Sungguh, itu berarti Dia pasti (berkuasa) menghidupkan yang telah mati. Dan Dia Mahakuasa atas segala sesuatu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 30:48 hingga 30:53

آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔

خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔