وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Yusuf ۸۵:۱۲

۸۵:۱۲
قالوا تالله تفتا تذكر يوسف حتى تكون حرضا او تكون من الهالكين ٨٥
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ ٨٥
قَالُواْ
تَٱللَّهِ
تَفۡتَؤُاْ
تَذۡكُرُ
يُوسُفَ
حَتَّىٰ
تَكُونَ
حَرَضًا
أَوۡ
تَكُونَ
مِنَ
ٱلۡهَٰلِكِينَ
٨٥
گفتند: «به الله سوگند، پیوسته یوسف را یاد می‌‌کنی، تا آنکه سخت بیمار گردی یا بمیری».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:85 تا 12:86
باب

بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ یعقوب علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔

صفحہ نمبر4062

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہو گئی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یوسف علیہ السلام کو رو رو کر آنکھیں کھو بیٹھا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں؟ یعقوب علیہ السلام نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:3403/3:ضعیف] ‏ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔

صفحہ نمبر4063