وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۷۹:۱۲
قال معاذ الله ان ناخذ الا من وجدنا متاعنا عنده انا اذا لظالمون ٧٩
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَـٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَـٰلِمُونَ ٧٩
قَالَ
مَعَاذَ
ٱللَّهِ
أَن
نَّأۡخُذَ
إِلَّا
مَن
وَجَدۡنَا
مَتَٰعَنَا
عِندَهُۥٓ
إِنَّآ
إِذٗا
لَّظَٰلِمُونَ
٧٩
(یوسف) گفت: «پناه بر الله، که ما جز آن کسی‌که کالای‌مان را نزد او یافته‌ایم، (دیگری را) بگیریم، بی‌گمان در آن صورت ستم کار خواهیم بود».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:78 تا 12:79
باب

جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھہر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لیے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہو چکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ یوسف علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہو سکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو نا کردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھوڑ دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔

صفحہ نمبر4054